spot_img
Monday, August 15, 2022
spot_img

-

ہومLatest Newsعامر لیاقت کا شہرت کی بلندی سے زوال تک کا سفر

عامر لیاقت کا شہرت کی بلندی سے زوال تک کا سفر

- Advertisement -
- Advertisement -

عامر لیاقت حسین کے اچانک انتقال کی خبرجس نے بھی سنی اسے یقین ہی نہیں آیا کہ زندگی اور تنازعات سے بھرپور شخص ایک دم دنیا کے سٹیج سے اچانک کیسےغائب ہو گیا۔ کراچی کے آغا خان ہسپتال نے 9 جون کو معروف ٹی وی اینکر اور تحریک انصاف کے ایم این اے ڈاکٹرعامر لیاقت حسین کی موت کی تصدیق کی تاہم موت کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آ سکیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے سے پہلے موت کی وجوہات بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن خود کشی کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا رہا۔

جنرل پرویز مشرف کے دور میں ان کے روشن خیال اسلام کے تصور کے مطابق عامر لیاقت پاکستان میں نجی ٹی وی چینل پر ایک کلین شیو اسلامی سکالر بن کر نمودار ہوئے۔ ان کا پروگرام ’عالم آن لائن‘ دیکھتے ہی دیکھتے انہیں شہرت کی بلندیوں تک لے گیا اور وہ پاکستان میں ٹی وی کے مشہور ترین چہروں میں سے ایک بن گئے۔ ان کا نام تین بار 500 مشہور اسلامی شخصیات کی فہرست میں آیا۔ 2002 کے عام انتخابات میں وہ ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور جنرل پرویز مشرف کی حمایت سے انہیں کابینہ میں وزارت مذہبی امور کا قلمدان بھی مل گیا۔ اس کے باوجود انہوں نے ٹی وی پر مذہبی پروگرام جاری رکھا جس میں ممتاز علمائے کرام سے اسلام اور زندگی کے حوالے سے موضوعات پر بات چیت کی جاتی تھی۔ ٹی وی میں آنے سے قبل کراچی میں عامر لیاقت کی وجہ شہرت تقریری مقابلوں میں کامیابی تھی۔ ان کے مخالفین بھی زبان و بیان پر ان کی گرفت کے معترف ہیں۔

عامر لیاقت کی اچانک موت کے حوالے سے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے بتایا کہ عامر لیاقت حسین نے جون 2002 میں اپنا صحافتی کیرئیر شروع کیا تھا۔ جیو ٹی وی کی ٹریننگ میں وہ دو ماہ تک ہمارے ساتھ رہے اور اس دوران ہماری دوستی ہو گئی۔

وہ بتاتے ہیں کہ ابھی چینل کی نشریات شروع نہیں ہوئی تھیں کہ اس دوران ایک دن کراچی میں دھماکہ ہو گیا لہٰذا ہم نے فیصلہ کیا ہم اس کو بطور چینل ایسے ہی کور کریں گے جیسے لائیو ٹی وی کرتا ہے۔ عامر لیاقت حسین نے سکرین پر دھماکے کی خبر بریک کی اور میں نے انہیں بیپر بھی دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ’جب اگست 2002 میں جیو ٹی وی نے اہنی ٹیسٹ ٹرانسمیشن شروع کی تو عامر لیاقت پہلے خبریں پڑھنے والوں میں سے تھے۔

حامد میر کے مطابق ان کا ڈاکٹر عامر لیاقت سے بطور صحافی تعلق مختصر تھا پھر جب وہ ایم این اے بنے تو وہ تعلق ختم ہو گیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ بول ٹی وی میں گئے تو میرے خلاف الزامات پر مبنی پروگرام بھی کیے۔ مجھے جب کراچی میں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا تو عامر لیاقت نے ایک کالم میری حمایت میں بھی لکھا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب جب کہ عامر لیاقت دنیا سے چلے گئے ہیں تو وہ ان کی مغفرت کے لیے دعا گو ہیں۔ حامدمیر نے بتایا کہ آخری دنوں میں عامر لیاقت بہت تکلیف میں رہے۔ انہوں نے بڑی شہرت کمائی مگر میرے خیال میں انہیں سیاست میں نہیں آنا چاہیے تھا۔‘

رحمت للعالمین اتھارٹی کے رکن ڈاکٹر محمد عامر طاسین نے اپنے 23 سال پرانے کالج کے زمانے کے دوست ڈاکٹر عامر لیاقت کے بارے میں کہا کہ انہوں نے ایک کامیاب اور خوشگوار زندگی گزاری تاہم آخری چند برسوں میں شاید حالات ان کے کنٹرول میں نہ رہے اور کچھ ایسی عادات کے ہاتھوں مجبور ہوئے جنہوں نے ان کو بہت نقصان پہنچایا۔

ڈاکٹر طاسین نے بتایا کہ وہ دونوں جب کالج میں تھے تو کراچی کی تقریر، قرات اور نعت کی ٹیم اسلام آباد میں انٹربورڈ مقابلے کے لیے آئی جس میں وہ دونوں بھی تھے۔ اس کے بعد دوستی کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری رہا تاہم آخری پانچ سالوں سے ان کا رابطہ کم ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر طاسین کے مطابق عامر لیاقت دوستوں کی مدد کرنے والے ایک اچھے انسان تھے۔ وہ جن اخبارات اور ٹی وی چینلز میں گئے اپنے دوستوں کو بھی ساتھ لے کر گئے اور زندگی بھر انہیں سپورٹ کیا۔

یاد رہے کہ عامر لیاقت کے والد شیخ لیاقت حسین مسلم لیگ فنکشنل کے مرکزی رہنما تھے اور ان کی والدہ محمودہ سلطانہ جنرل ضیا الحق کی مجلس شوری ٰکی رکن تھیں۔ ڈاکٹر عامر لیاقت نے شہرت، دولت اور ترقی اپنی محنت اور تخلیقی صلاحیت سے حاصل کی۔ تاہم عامر لیاقت کا شہرت اور تنازعات سے بھرپور سفر تنہائی کی موت پر منتج ہوا۔ اپنی تین بیویوں کے نام اپنے آخری ویڈیو پیغام میں عامر لیاقت نے کہا تھا کہ میں نے کیا کچھ کیا تمہارے لیے، لیکن تم کچھ بھی نہ کر سکے ہمارے لئے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے زندگی میں کسی بھی بیوی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی لیکن میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا، لہذا میں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا حساب اپنے اللہ پر چھوڑتا ہوں۔

- Advertisement -

Related articles

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Stay Connected

6,000مداحپسند
300فالورزفالور
3,061فالورزفالور
400سبسکرائبرزسبسکرائب کریں

Latest posts