spot_img
Monday, August 8, 2022
spot_img

-

ہومLatest Newsڈپٹی اسپیکر پنجاب کی رولنگ کا کیس: سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ...

ڈپٹی اسپیکر پنجاب کی رولنگ کا کیس: سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

- Advertisement -
- Advertisement -

ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام فریقین معاونت کریں تو بہتر طریقے سے فیصلے پر پہنچ سکتے ہیں، بائیکاٹ کرنے والے نظرثانی کریں تو سب کے لیے بہتر ہوگا۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ ہمارے پاس دوسرا راستہ یہ ہے کہ ہم بینچ سے الگ ہو جائیں۔**

تحریری حکم نامہ

سپریم کورٹ ( Supreme Court Of Pakistan) کی جانب سے 26 جولائی کو جاری گزشتہ سماعت کے تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ حکمران اتحاد کی فل کورٹ بنانے کی تمام درخواستیں مسترد کردی ہے، جب کہ فل کورٹ تشکیل نہ دینے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ اس موقع پر سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر ایک میں ہونے والی سماعت میں فیصلہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے خود پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے کہا کہ قانونی سوال ہے کہ ارکان اسمبلی کو ہدایت پارٹی سربراہ دے سکتا ہے یا نہیں؟۔

سماعت جاری

ڈپٹی اسپیکر پنجاب کی رولنگ کیس پر دوبارہ سماعت بھی سپریم کورٹ آف پاکستان میں جاری ہے۔ قوی امکان ہے کہ مکمل حکم نامہ اور سماعت آج ہی مکمل ہو جائے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی بینچ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف پرویز الٰہی کی درخواست کی پر سماعت کر رہا ہے،جس میں ڈھائی بجے تک وقفہ کیا گیا ہے۔

سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب کے وکیل نے عدالت کے روبرو کہا کہ میرے مؤکل کی ہدایت ہے کہ عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بننا، ملک میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ چل رہا ہے، فل کورٹ کے حوالے سے فیصلے پر نظرثانی دائر کرینگے۔

اس موقع پر فاروق ایچ نائیک کے وکیل نے کہا کہ فاروق نائیک نے بھی کارروائی کے بائیکاٹ سے آگاہ کر دیا، جس پر چیف جسٹس نے فاروق ایچ نائیک کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ تو کیس کے فریق ہی نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اصل سوال تھا کہ ارکان کو ہدایات کون دے سکتا ہے، آئین پڑھنے سے واضح ہے کہ ہدایات پارلیمانی پارٹی نے دینی ہیں، اس سوال کے جواب کیلئے کسی مزید قانونی دلیل کی ضرورت نہیں، یہ ایسا سوال نہیں تھا اس پر فل کورٹ تشکیل دی جاتی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فریقین کے وکلاء کو بتایا تھا کہ آئین گورننس میں رکاوٹ کی اجازت نہیں دیتا، صدر کی سربراہی میں1988میں نگران کابینہ عدالت نے کالعدم قرار دی تھی، عدالت کا مؤقف تھا وزیراعظم کے بغیر کابینہ نہیں چل سکتی، فل کورٹ کی تشکیل کیس لٹکانے سے زیادہ کچھ نہیں تھا، ستمبر کے دوسرے ہفتے سے پہلے ججز دستیاب نہیں، گورننس اور بحران کے حل کیلئے جلدی کیس نمٹانا چاہتے ہیں، دلائل کے دوران اکیسویں ترمیم کیس کا حوالہ دیا گیا، تین رکنی بینچ نے کہا کہ 21ویں ترمیم والے فیصلے میں آبزرویشن ہے کہ پارٹی سربراہ ووٹ کی ہدایت کرسکتا ہے، آرٹیکل 63 اے کی تشریح میں کون ہدایت دے گا یہ سوال نہیں تھا، تشریح کے وقت سوال صرف منحرف ہونے کے نتائج کا تھا۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے علی ظفر ( Ali Zafar ) کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قانونی سوالات پر عدالت کی معاونت کریں، دوسرا راستہ ہے کہ ہم بینچ سے الگ ہو جائیں۔

علی ظفر نے معزز عدالتی کے روبرو اپنے معاونت کرتے ہوئے کہا کہ اکیسویں ترمیم کیخلاف درخواستیں 13/4کے تناسب سے خارج ہوئی تھیں، درخواستیں خارج کرنے کی وجوہات بہت سے ججز نے الگ الگ دی تھیں، اکیسویں ترمیم کیس میں آرٹیکل 63 اے کو خلاف آئین قرار دیا تھا، جسٹس جواد خواجہ کی رائے تھی آرٹیکل 63اے آزادی سے ووٹ دینے سے روکتا ہے، جسٹس جواد خواجہ نے فیصلے میں اپنی رائے کی وجوہات بیان نہیں کیں، جسٹس جواد خواجہ کی رائے سے اتفاق نہیں کرتا۔

اس پر چیف جسٹس نے علی ظفر سے سوال کیا کہ آئین کیا کہتا ہے کس کی ہدایات پر ووٹ دیا جائے، جس پر علی ظفر نے کہا کہ آئین کے مطابق ووٹ کی ہدایات پارلیمانی پارٹی دیتی ہے، چیف جسٹس نے علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا پارلیمانی پارٹی یا پارٹی سربراہ سے الگ ہے؟ جواباً پرویز الہی کے وکیل نے عدالتی سوال پر کہا کہ پارلیمانی جماعت اور پارٹی لیڈر دو الگ الگ چیزیں ہیں۔

جسٹس اعجاز نے کہا کہ آئین کے تحت پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کے فیصلے پر عمل درآمد کراتا ہے، پارلیمانی جماعت اپنے طور پر تو کوئی فیصلہ نہیں کرتی، جماعت کے فیصلے پر پارلیمانی جماعت کو آگاہ کیا جاتا ہے جس پر وہ فیصلہ کرتی ہے۔ علی ظفر نے سابق صدر پرویز مشرف کے دور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں پارٹی سربراہ کی جگہ پارلیمانی سربراہ کا قانون آیا تھا، اٹھارہویں ترمیم میں پرویز مشرف کے قانون کو ختم کیا گیا۔

- Advertisement -

Related articles

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Stay Connected

6,000مداحپسند
300فالورزفالور
3,061فالورزفالور
400سبسکرائبرزسبسکرائب کریں

Latest posts