spot_img
Wednesday, August 10, 2022
spot_img

-

ہومLatest Newsہیرا آدمی

ہیرا آدمی

- Advertisement -
- Advertisement -

قیراط بیش قیمت جواہرات کا وزن ماپنے کا پیمانہ ہے، ایک قیراط کا مطلب ہوتا ہے 200ملی گرام، اور پانچ قیراط ہوئے ایک گرام، پانچ قیراط ہیر ے کی قیمت تین کروڑ تک ہو سکتی ہے، آج کل دستور یہ ہے کہ جوہری ہیرا بیچتا ہے تو ساتھ اس کی قیمت کا ایک سرٹیفکیٹ بھی دیتا ہے جسے دکھا کر خریدار جب چاہے اسی قیمت پر ہیرا واپس کر سکتا ہے۔ کہتے ہیں ہیرے ابدی ہوتے ہیں، Diamonds are forever!

لیکن اگر ہیروں کا حصول غیر اخلاقی اور غیر قانونی طور پر کیا جائے توان ہیروں کے ساتھ بدنامی بھی در آتی ہے، وہ بھی دائمی ہوتی ہے، انگریز 1849 میں کوہ نور نام کا 105 قیراط کا ایک ہیرا برصغیر سے چرا کر لے گئے تھے، وہ بدنامی آج بھی انگریزوں کا پیچھا کرتی ہے، اور جس پانچ قیراط کی انگوٹھی کی خیرہ کن تفصیلات ہم آج کل سن رہے ہیں وہ بھی سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کی نیک نامی میں اضافے کا باعث نہیں بن رہیں۔

(حدیث پاک ہے کہ میری امت کا سب سے بڑا فتنہ مال ہے، اور عمران خان کے سیاسی مخالفین بھی انہیں ’پیار سے‘ فتنہ کہتے ہیں۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان سے مسز شاہد خاقان عباسی تک پاکستان کی کسی خاتونِ اول کی ہم راز سہیلی اپنی سیرت میں فرح گوگی سے اتفاقی مماثلت بھی نہیں رکھتیں۔یہ جو ہوس دلوں میں گھونسلے بنا لیتی ہے اس پر پھر کبھی تفصیل سے بات کریں گے)

جب آپ حکمران ہوتے ہیں، طاقت ور ہوتے ہیں، آپ کے حکم پر تالے کھل جاتے ہیں، لیکن اگر حکم ران کا دل مقفل ہو چکا ہوتو وہ تالہ کھولنے کا ریٹ طے کر لیتاہے، پانچ قیراط کا ہیرا خیرات میں نہیں دیا جاتا، رشوت میں دیا جاتا ہے، اور اس کے بدلے اربوں کے ناجائز غیر قانونی کام لیے جاتے ہیں، ساڑھے چار سو کنال القادریہ یونی ورسٹی کے اور تقریباً اتنے ہی کنال بنی گالا میں مبینہ طور پر فرح صاحبہ کے راستے منزل تک پہنچائے گئے، یہ تحائف اربوں روپے کے تو ہوں گے اور ان کے بدلے کھربوں کے کام بھی لیے گئے ہوں گے، مگربات یہاں بھی ختم نہیں ہوتی (مبینہ اور غیر مبینہ سے آگے چلیے) عمران خان کی سیاست کا ایک مرکزی نعرہ تھا کہ ’لوٹی ہوئی رقم بیرون ملک سے واپس لائی جائے گی‘۔

 پھر جب اس سلسلے کی واحد کامیابی حاصل ہوئی اور برطانوی کرائم ایجنسی نے غیر قانونی 190 ملین پاؤنڈ پکڑ کر پاکستان کے حوالے کئے تو وہ حکومت نے عدالت کی مدد سے انہی صاحب کو تحفے میں دے دیے، یہ واردات ’مبینہ‘ نہیں ہے، یہ ایک حقیقت ہے، یہ فراڈ دن دہاڑے کیا گیا، کابینہ کا ایک خفیہ سر بہ مہر فیصلہ ریکارڈ کا حصہ ہے، پیسہ سپریم کورٹ کے اکائونٹ میں آیا اور وہاں سے پیا گھر سدھار گیا۔

 یہ واردات دیومالائی ڈھٹائی سے سرِبازار کی گئی، یعنی مصحفیؔ کی زبان میں’بازار سے گزرے ہے وہ بے پردہ کہ اس کو، ہندو کا ہے خطرہ نہ مسلمان کا ڈر ہے‘۔ اس تحفے کے بدلے کیا وصول کیا گیا؟ عمران خان بتائیں گے نہ ثاقب نثار، اور سچ تو یہ ہے کہ کوئی پوچھے گا بھی نہیں،کیوں کہ اس دربار میں سب عمامے رنگے ہوئے ہیں، سب کلاہیں جھکی جھکی۔

آگے چلتے ہیں، کل تک سنتے تھے کہ ساری حکومت ضمانت پر ہے اور آج صورتِ احوال کچھ یوں ہے کہ تمام اپوزیشن بھی ضمانت پر ہے، یعنی ’سب مزے میں ہیں‘،۔ درپردہ خواہش یہی نظر آتی ہے کہ حکومت کے خلاف کیسز کو تحفظ دیا جائے، چار پانچ سال کی کوشش کے بعد بھی جو کیسز ثابت نہیں ہو سکے انہیں تحفظ دیا جا ئے، وہ تفتیشی افسر جنہیں عمران حکومت نے ’نیک نیتی‘ کی بنا پر مامور کیا تھا انہیں تحفظ دیا جائے، ’چوروں اور ڈاکوئوں کی حکومت‘ کے بیانیے کو تحفظ دیا جائے۔

دوسری جانب عمران خان نقصِ امن اور لاقانونیت کے مقدمات میں ضمانت پر ہیں۔ فی الحال ان پر کرپشن کا کوئی کیس نہیں ہے، حکومت کوئی کچا کیس بنانا نہیں چاہتی اور پکا کیس کیسے بنے جب انٹیلی جنس ایجنسیوں اور تفتیشی اداروں کو حکومت سے تعاون کرنے کی کوئی جلدی نہ ہو، اور نیب کے ڈسے ہوئے بیوروکریٹ مزید کسی الجھن میں پڑنے سے کترا رہے ہوں۔

اور کسی کو ہو نہ ہو، عمران خان کو اپنی گرفتاری کا اندیشہ ہے، تبھی تو ضمانت لی گئی ہے، ویسے اگر کرپشن کا کیس نہ ہو تو تیسری دنیا کے سیاست دان گرفتاری سے نہیں گھبراتے، جیل کو تو ہمارے ہاں سیاست دان کا زیور بتایا جاتا ہے لیکن خان صاحب اس علامتی زیور کے بجائے، حقیقی دنیا کے آدمی ہیں اور فقط اسی زیور کے قائل نظر آتے ہیںجو قیراط میں تولا جا سکے ( عاصم منیر صاحب کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی وجہ تو آپ کو معلوم ہی ہو گی)۔

 ویسے خان صاحب کی گرفتاری میں ہماری دل چسپی صرف اس حد تک ہے کہ محبانِ عمران کا ردِ عمل دیکھا جائے، جو سمجھتے ہیں کہ اگر خان صاحب کو گرفتار کیا گیا تو آسمان لال ہو جائے گا، تیز آندھیاں چلیں گی اور چرند پرند تو کیا جمادات بھی گریہ کناں ہو جائیں گے (ذوالفقار علی بھٹوشہید یاد آ گئے)۔

بہرحال خان صاحب کی سیاست دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، حکومت سے نکلنے کے بعد انہوں نے امریکی سازش، میر جعفر، نیوٹرل، بھکاری، غلامی اور حقیقی آزادی کا منتر ایجاد کیا، حکومت اور اداروں پر خوب دباؤ ڈالا مگر ڈی چوک سے بے نیلِ مرام لوٹنے کے بعد اب ان کی کیفیت ’’ساغر کو ذرا تھام میں کچھ سوچ رہا ہوں‘‘ والی ہو چکی ہے، حاضر سروس حضرات سے مایوسی کے بعد اب ان کی امیدوں کا مرکز ریٹائرڈ اصحاب ہیں، یعنی ’’کوئی حالت نہیں یہ حالت ہے‘‘اور نوبت اگر یہاں تک آ پہنچی ہے تو مخلصانہ مشورہ یہی ہے کہ ایک بار مار دھاڑ سے ہٹ کر بھی سیاست کر کے دیکھیں۔ خان صاحب، پارلیمنٹ میں لوٹ آئیے آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا!

- Advertisement -

Related articles

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Stay Connected

6,000مداحپسند
300فالورزفالور
3,061فالورزفالور
400سبسکرائبرزسبسکرائب کریں

Latest posts