spot_img
Monday, August 8, 2022
spot_img

-

ہومLatest Newsچولہا ٹھپ حکومتی وار اور حالاتِ حاضرہ

چولہا ٹھپ حکومتی وار اور حالاتِ حاضرہ

- Advertisement -
- Advertisement -

اشیائے خورونوش کی گرانی سے سخت کوش زندگی میں جکڑے عوام تو پس ہی گئے تھے کہ ’’مہنگائی مکائو‘‘ کے نعرے پر ’’متنازعہ آئینی گنجائش‘‘ سے اقتدار میں آ ئی شہباز حکومت کے چولہا ٹھپ حکومتی وار سے خود یہ مہم جُو حکومت بھی ایسے اعصاب شکن دبائو میں آکر حیران و پریشان ہے۔ حیران اس لئے کہ جس کو اتنے پاپڑ بیل کر اقتدار سے اتارا وہ ایک رات میں عوام کا مقبول رہنما کیسے بن گیا اور یہ مقبولیت بے قابو ہو گئی اور تو اور حکومت میں رہتے، کڑے مقدمات کی سماعت جاری ہے۔

میڈیا میں سماعت کی کوریج اور اس کا فالو اپ بڑے ڈرائونے خواب دکھا رہا ہے پہلے سے عوام میں زیر بحث رہنے والے تفتیشی ادارے، خصوصی اور اعلیٰ عدالتیں سب بحران میںخود پر کوئی داغ لگنے سے محتاط ہو گئی ہیں عوام کے تیور حیران کن اور احتسابی ہیں۔ موجودہ حکومت نے عمران حکومت ختم کرنے کی متحدہ جدوجہد کے لئے فقط مہنگائی کے کارڈ کو ہی استعمال کیا۔ مولانا صاحب مریم و حمزہ اور بلاول نے ’’تحریک عدم اعتماد‘‘ آنے سے چند ہفتے پہلے ہی بلارکاوٹ ’’مہنگائی مکائو مارچ‘‘ کئے اس کا وقتی سیاسی اثر بھی ہوا کہ پی ڈی ایم کی مہنگائی پر چیخ وپکار اور میڈیا کی اس پر پروپیپل احتجاج و مطالبے کی جارحانہ کوریج نے عمرانی حکومت کے ہاتھوں طوطے اڑانے شروع کر دیئے ۔کوئی اڑ کر سندھ ہائوس آکر بیٹھا، کوئی کسی کونے کھدرےمیں چھپ گیا کچھ رقیب بن جانے والے سابقہ سیاسی ہمرکابوں کی ستم ظریفی اور ڈگمگاتے اتحادی ہوا کے ساتھ رخ بدلتے نظر آئے تو پی ڈی ایم کی حکومت اکھاڑنے کی امید برآئی ۔خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے کتنے ہی تضادات کے ساتھ پی ڈی ایم کی جماعتوں کے دیرینہ تضادات اور سخت رقابتوں کے باوجود متحد ہو کر پی ڈی ایم بن جانا اسٹیٹس کو برینڈجمہوریت کا حسن ہی مانا گیا اتنے حسن پر تو بڑی دور دو رسے نظریں گڑ جاتی ہیں حتیٰ کہ باہر والوں کی بھی ،یہ کوئی بات نہیں تھی کہ پاکستانی سیاسی قوتوں کے ساتھ امریکہ کی سیٹی مل گئی بلکہ یہ تو ہر دو کے دو طرفہ تعلقات کی تاریخ کا بڑا واضح روایتی پہلو رہا لیکن پاکستان میں کوئی تبدیلی آئی یا نہ آئی ، یہ ضرور آ چکی تھی کہ اب پاکستان کی حسین روایتی سیاسی قوتوں کے مقابل اک منہ پھٹ بیباک بیزار رکاوٹ بھی موجود تھی امریکہ کےلئے بھی اور ملکی قومی سیاسی ڈھانچے میں بھی،یہ ان ہونی تھی جو ہو گئی یہاں بغیر کسی بحث کے امریکی مداخلت یا سازش کو درست ہی مان لیا جائے تو مطلب تو پی ڈی ایم حکومت کا بھی پوراہو گیا اور امریکہ کا بھی سانجھا مفاد۔اب سوال ’’شریکان سازش‘‘سے پوچھا کہ وہ جو عمرانی حکومت ختم ہونے پر ہمیں معافی ملنی تھی وہ کہاں گئی؟

اتنا تو ہوتا کہ آئی ایم ایف کی جکڑبند شرائط نرم ہو جاتیں یا کم از کم دوست ملکوں کو ہی یہ اجازت ہوتی کہ وہ آئی ایم ایف سے کلیرنس کے بغیر بھی جو مہربانی یا احسان ہم پر کرنے کے لئے آمادہ ہیں انہیں یہ مہربانی کرنے دی جاتی ۔اگر یہ سازش نہیں ہوئی سب کچھ پی ڈی ایم نے 90کی ہی سیاست کے گندے کھیل کھیلتے ہی کیا جیسا کہ ن لیگ کے ترجمان جاوید لطیف نے کھلا اعتراف کیا تھا کہ’’ ہمارے پاس عمران کو اتارنے کا اب کوئی راستہ نہیں رہ گیا تھا تو ہم ہارس ٹریڈنگ کر رہے ہیں‘‘ہر دو صورتوں میں ،سازش ہوئی یا نہیں ہوئی پی ڈی ایم خصوصاً شہباز حکومت کو الیکشن مہم کے دوران جواب دینا ہوگا کہ ’’سازش کامیاب‘‘ ہونے پر عوام کو سخت کوش زندگی سے نکالنے کے لئے پاکستان کو معاف کر دینے کا وعدہ، یقین دہانی کیوں پوری نہیں کرائی ۔اگر سازش نہیں تھی تو پھر عمران خان کو اقتدار سے الگ کرکے آپ نے آتے ہی عوام کو مہنگائی سے نجات کے لئے کچھ نہیں، بہت کچھ کرنا تھا ۔

متذکرہ حقائق اور سوالوں کی روشنی میں آپ انتخابی مہم شروع ہونے پر ہی نہیں اب بھی حکومت میں رہتے جواب دہ ہیں کہ آپ نے بحرانوں میں گھری لیکن ان سے نپٹتی (بھی ) حکومت کو اتار کر جاری جمہوری اور سیاسی عمل کو اپنی ہی قوت یا بیرونی پشت پناہی سے کیوں معطل کرکے سنگین نوعیت کا آئینی اور سیاسی بحران پیدا کیا جس سے معاشی خسارے کا گراف کئی گنا بڑھا۔ آپ کے پاس کچھ بھی تو نہیں تھا نہ (سازش کی صورت میں) امریکہ سے عہد کا پاس (معافی ) کرانے کی اہلیت حتیٰ کہ آپ کے عدالتی مفرور اکنامک جینئس کوئی آن لائن کردار ادا کرنے کے قابل نہیں ، یا شاید کچھ کر ہی نہیں سکتے کہ جو کرتے تھے سب اکنامک گیمکس ہی ہوتا تھا تبھی تو مشرف دور میں آئی ایم ایف سے جان چھڑانے والا پاکستان آج ہاتھ پیر بندھوائے بدترین مشکل میں آئی ایم ایف کے رحم وکرم پر ہے۔

آپ نے مہنگائی مکائو کے نعرے پر ڈیڑھ سال کے لئے اقتدار سنبھالنے پرابھی تک کوئی مختصر المدت ایسا اکنامک پلان بھی نہیں دیا جس سے عوامی سطح کی معیشت اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں کم نہ ہوتیں تو قابو تو رہتیں ۔جبکہ تمام تاجر برادری، سپلائی چین کی انتظامیہ بڑے بڑے زمیندار، معمولی یا بالکل ٹیکس نہ دینے والے بڑی آمدنی کے گروپس آپ کے پرزور سیاسی معاون و ہمنوا ہیں۔اب تو آپ حکومت میں ہیں وہ آپ کا چارٹر آف اکنامکس جس پر آپ عمران حکومت کو انگیج کرنا چاہتے تھے کہاں ہے ؟ نہ کرے تحریک انصاف بات، آپ تو اسے پٹاری سے نکالیں اور یہ جو گرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز وزیر اعظم شہباز نے پیش کی ہے بنیادی طور پر تو معقول اور ناگزیر بھی ہے لیکن آپ نے یہ ماحول آکر بنایا ہے کہ ایسا کچھ ہو سکے ۔آپ کی وزارت داخلہ تو ’’ماڈل ٹائون‘‘ کے ماڈل پر داخلی امن نہیں داخلی انتشار پھیلا رہی ہے خود تین مہنگائی مارچ آپ نے عمران حکومت میں کئے اب تحریک انصاف نے احتجاج یا اجتماع کا آئینی حق استعمال کیا تو ایک رات قبل ہی اسے روکنے کے لئے روایتی فسطائی حربوں سے بھی بڑھ کر ملک بھر میں گھروں پر بغیر وارنٹ چھاپے کیسے مارے گئے شہروں سے شروع ہونے والے مکمل پرامن مارچ پر شہروں کے اندر ہی بہیمانہ تشدد کے ان گنت واقعات ہوئے۔ عدالتی حکم کی تعمیل یا خلاف ورزی تو حکم پہنچنے اور حکم کے مطابق مذاکرات میں تذبذب یا کنفیوژن کا معاملہ تھا جو شام گئے اسلام آباد میں ہونے سے بگاڑ آیا سارا دن جو تشدد کا بازار اسلام آباد سے دور کے شہروں میں ہوا اور اب جو تیزی سے مقبولیت پکڑتے عمران خاں پر 1960ء کے سے بے بنیاد پرچے کاٹ کر حکومت سمجھتی ہے کہ گرینڈ ڈائیلاگ کی کوئی گنجائش ہے آپ سب کچھ چھوڑیں خدارا ! اگر خادم اعلیٰ ہونے کے دعویدار ہیں تو مہنگائی مکائیں۔

- Advertisement -

Related articles

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Stay Connected

6,000مداحپسند
300فالورزفالور
3,061فالورزفالور
400سبسکرائبرزسبسکرائب کریں

Latest posts