spot_img
Thursday, August 18, 2022
spot_img

-

ہومLatest Newsشوہر کے ساتھ جانا چاہتی ہوں‘: دعا کے بیان کے بعد عمر...

شوہر کے ساتھ جانا چاہتی ہوں‘: دعا کے بیان کے بعد عمر کے تعین کیلئے میڈیکل کا حکم

- Advertisement -
- Advertisement -

کراچی: چشتیاں سے حراست میں لی گئی دعا زہرہ نے سندھ ہائیکورٹ میں مؤقف اپنایا کہ اسے کسی نے اغوا نہیں کیا تھا، اپنی مرضی سے گئی اور  شادی کی تھی، اپنے شوہر کے ساتھ جانا چاہتی ہوں

دعا زہرہ اور اس کے شوہر ظہیر کو انتہائی سخت سکیورٹی میں سندھ ہائیکورٹ میں پیش کیا گیا، اس موقع پر دعا زہرہ کے والدین نے بیٹی سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تاہم پولیس نے دعا زہرہ کے والدین کو بیٹی سے ملوانے سے انکار کر دیا۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات پر دعا زہرہ کو پیش کر دیا گیا ہے، جس پر جسٹس جنید غفار نے استفسار کیا کہ 10 جون کو کیس لگا ہوا ہے، آپ آج کیوں آئے ہیں، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ عدالتی حکم تھا جیسے دعا بازیاب ہو پیش کیا جائے جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے بھی 10 جون کو دعا کو طلب کیا ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ لڑکی اپنی مرضی سے صوبہ چھوڑ کر گئی اور اس نے پنجاب جا کر شادی کی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ یہاں لڑکی کے اغوا کا کیس نہیں ہے کیا؟

لڑکی کے والد مہدی کاظمی کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ لڑکی کے اغواء کا مقدمہ درج ہے، لڑکی کی عمر کم ہے اس لیے اغوا کا مقدمہ درج کرایا ہوا ہے۔

جسٹس جنید غفار نے ریمارکس دیے کہ ابھی لڑکی بیان دے گی تو اغوا کا مقدمہ ختم ہو جائے گا۔

دعا زہرہ نے عدالت میں بتایا کہ میرا نام دعا زہرہ اور والد کا نام مہدی کاظمی ہے، جس پر عدالت نے پوچھا کہ آپ کی عمر کیا ہے؟ دعا نے بتایا کہ عمر 18 سال ہے اور اپنے شوہر ظہیر کے ساتھ رہتی ہوں۔

سندھ ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ آپ کے والد نے کہا ہے کہ ظہیر نے آپ کو زبردستی اغوا کیا؟ جس پر دعا نے بتایا کہ نہیں مجھے اغوا نہیں کیا گیا

عدالت نے پوچھا کہ آپ کو کہاں سے بازیاب کرایا گیا؟ جس پر لڑکی نے بتایا کہ مجھے چشتیاں سے بازیاب کرایا گیا ہے، میں ظہیر کے ساتھ جانا چاہتی ہوں۔

سندھ ہائیکورٹ نے دعا زہرہ کی عمر کے تعین کے لیے 2 روز میں طبی ٹیسٹ کرانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 8 جون تک ملتوی کر  دی اور لڑکی کو شیلٹر ہوم بھیجنے کی ہدایت کر دی۔

قبل ازیں پولیس حکام کا کہنا تھا کہ دعا زہرہ کو  لاہور سے کراچی منتقل کر کے ویمن پولیس کے حوالے کیا گیا جبکہ دعا زہرہ کے شوہر ظہیر کو اے وی سی سی کی حفاظتی تحویل میں دیا گیا۔

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ دعا زہرہ کو آج ہی عدالت میں پیش کیا جائے گا جبکہ لڑکی کے والدین بھی بیٹی کی ممکنہ پیشی کے پیش نظر عدالت پہنچ گئے۔

بعد ازاں حکومت سندھ نے دعا زہرہ کو آج ہی عدالت میں پیش کرنے کے لیے سندھ ہائیکورٹ سے باضابطہ طور پر رجوع کیا

اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ دعا زہرہ کوپیش کرکے بیان ریکارڈ کرانا چاہتے ہیں، عدالت دعا زہرہ کو آج ہی پیش کرنے کی اجازت دے، جس پر عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے کیس آج ہی سماعت کے لیے منظور کر لیا

یاد رہے کہ اپریل میں کراچی سے لاپتہ ہونے والی دعا زہرہ کو تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد گزشتہ روز چشتیاں سے بازیاب کروایا گیا تھا، دعا زہرہ اور اس کے شوہر ظہیر کو لاہور کی سی آئی اے پولیس نے ایک وکیل کے گھر سے حراست میں لیا تھا۔

سندھ ہائیکورٹ نے دعا زہرہ کو بازیاب کروا کے 10 جون کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا

- Advertisement -

Related articles

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Stay Connected

6,000مداحپسند
300فالورزفالور
3,061فالورزفالور
400سبسکرائبرزسبسکرائب کریں

Latest posts