spot_img
Thursday, August 18, 2022
spot_img

-

ہومLatest Newsپچیس ووٹ نکال کر دوبارہ پولنگ کی صورت میں اکثریت والا وزیر...

پچیس ووٹ نکال کر دوبارہ پولنگ کی صورت میں اکثریت والا وزیر اعلیٰ پنجاب بن جائے گا، لاہور ہائیکورٹ

- Advertisement -
- Advertisement -

لاہور ہائیکورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے چناو سے متعلق اہم ریمارکس میں کہا ہے کہ پچیس ووٹ نکال کر دوبارہ پولنگ کی صورت میں اکثریت والا وزیر اعلیٰ بن جائے گا۔

لاہور ہائیکورٹ میں وزیراعلی حمزہ شہباز کے حلف کے فیصلے اور گورنر کے اختیارات کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے اہم ریمارکس میں کہاکہ پچیس ووٹ نکال کر دوبارہ پولنگ کی صورت میں اکثریت والا وزیر اعلیٰ بن جائے گا۔اکثریت والا وزیر اعلیٰ بن جاتا ہے تو حمزہ شہباز کا نوٹیفکیشن ختم ہو جائے گا۔

عدالت نےکہاکہ کیس کا فیصلہ آج ہی کرنا چاہتے ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل  پنجاب حکومت سےہدایت لےکربتائیں کہ  سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے لئے پنجاب اسمبلی کا اجلاس کب بلایا جا سکتا ہے۔  تحریک انصاف  اور پنجاب حکومت کےوکیل ہدایات لے کر پیش ہوں۔

ریمارکس میں کہا گیا ہے کہ عدالت کی معاونت کریں کہ اگر ہم اجلاس دوبارہ 16 اپریل کی تاریخ پر لے جائیں اور پولنگ دوبارہ ہو تو بحران سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ایسی صورت میں پولنگ وہی پریزائڈنگ افسر کروائے گا جس نے 16 تاریخ کو کروائی۔

وکیل تحریک انصاف نےکہاکہ ہم نے ڈپٹی اسپیکر کے ذریعے پولنگ کو بھی چیلنج کیا ہے۔عدالت نےکہاکہ  الیکشن ڈپٹی اسپیکر ہی کروائے گا کیونکہ اس پر لاہورہائیکورٹ کا ایک فیصلہ موجود ہے جسے چیلنج نہیں کیا گیا۔

جسٹس شاہد جمیل نے کہاکہ وزیر اعلی کا آفس کسی صورت خالی  نہیں رہ سکتا۔جسٹس صداقت علی خان نے کہاکہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ حمزہ شہباز کے پاس اکثریت  نہیں رہی۔اگر اسپیکر 25ووٹ نکال کر الیکشن کرواتا ہے تو اکثریت رکھنے والا وزیراعلیٰ بن جائے گا اور دوبارہ حلف ہوگا۔

وقفے کے بعد  دوبارہ سماعت ہونے پر ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے  جواب حمع کروانے کے لیےعدالت سے ایک دن کی مہلت مانگ لی۔ کہا۔ہم نے چیف منسٹر کو بریف کرنا ہے مزید ایک دن درکار ہے۔

وکیل تحریک انصاف نے کہا ہم نے حمزہ شہباز کی تعنیاتی کو چیلنج کر رکھا ہے۔عدالت نے یہ پوچھا اگر ہم درخواست منظور کر لیتے ہیں تو حالات کیا ہوں گے تاکہ بحران پیدا نہ ہو۔اگر حمزہ شہباز کے ہوتے ہوئے الیکشن کروائیں گے تو وہ غیر آئینی الیکشن ہو گا.

وکیل علی ظفر نے دلائل میں کہا ہے کہ الیکشن کے لیے کم از کم دس دن کا وقت ہونا چاہیے۔کچھ صورتحال اب ریورس نہیں ہو سکتی کیوں کہ 25 لوگ ڈی نوٹی فائی ہو گئے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل کی  مہلت کی درخواست پرکیس کی سماعت کل 10 بجے تک ملتوی کر دی۔

- Advertisement -

Related articles

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Stay Connected

6,000مداحپسند
300فالورزفالور
3,061فالورزفالور
400سبسکرائبرزسبسکرائب کریں

Latest posts