spot_img
Monday, August 15, 2022
spot_img

-

ہومLatest Newsشہید بے نظیر بھٹو کی یادیں

شہید بے نظیر بھٹو کی یادیں

- Advertisement -
- Advertisement -

گزشتہ ماہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا جنم دن تھا ، میرے ذہن میں ان کی یادیں ابھریں۔ حال ہی میں محترمہ بیگم نصرت بھٹو پر ’’مادرِ جمہوریت‘‘ کے نام سے میری کتاب شائع ہوئی ہے،محترمہ بے نظیر بھٹو سے میری پہلی ملاقات ذوالفقار علی بھٹو کی گرفتاری کی رات ہوئی‘ اس کے بعد دوسرے دن انہوں نے 70 کلفٹن میں ایک بھرپور پریس کانفرنس سے خطاب کیا‘ کم عمر محترمہ کی یہ پہلی پریس کانفرنس تھی‘جس میں انہوں نے انگریزی میں خطاب کیا اورسبھی صحافیوں کو بہت متاثر کیا۔ 

انہوں نے بھٹو صاحب کی گرفتاری اور جنرل ضیاء الحق کی حکومت کی شدید مذمت کی اور واضح کیا کہ حکومت کی اس کارروائی کو قبول نہیں کیا جائے گا، اس کی پوری شدت کے ساتھ ملک بھر میں مزاحمت کی جائے گی اور گھٹنے نہیں ٹیکے جائیں گے۔اس کے بعد ان سے چائے کے وقفے کے دوران گفتگو ہوئی تو انہوں نے کہا کہ بھٹو صاحب کی گرفتاری کے خلاف ملک بھر میں زوردار تحریک چلائی جائے گی‘ بعدازاں شہید بے نظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو نے ملک بھر میں الگ الگ جلسے اور جلوس منعقد کرنا شروع کردیے‘ ان کی ان حکومت مخالف سرگرمیوں پر عوام نے انتہائی مثبت ردِعمل ظاہر کیا‘ ملک بھر میں ہر جگہ ان کے ان احتجاجی جلسوں اور جلوسوں میں عوام بڑے پیمانے پر شرکت کرتے رہے‘ بھٹو صاحب کی گرفتاری کے وقت ان کے دونوں بیٹے لندن میں تھے۔

ارشاد رائو صاحب ،جو ایک سینئر صحافی ہیں،نے انکشاف کیا کہ حکومت پاکستان نے لندن میں میر مرتضیٰ بھٹو کی رہائش گاہ پر ان کی غیر موجودگی میں چھاپہ مارکر ان کے کمرے سے کچھ اہم دستاویزات اپنے قبضے میں لے لیں‘ ان دستاویزات میں ایک خط بھی شامل تھا جو محترمہ بے نظیر بھٹو نے کراچی سے لندن میں میر مرتضیٰ بھٹو کو لکھا تھا‘ حکومت نے یہ خط پاکستان کے اخبارات میں شائع کرایا‘ میری موجودگی میں رائو صاحب نے 70 کلفٹن ٹیلی فون کرکے محترمہ بے نظیر بھٹو سے بات کی اور انہیں بتایا کہ لندن میں میر مرتضیٰ بھٹو کو لکھاگیا ان کا خط اخبارات میں شائع کرایا گیا ہے ۔

یہ سن کر محترمہ نے کہا کہ یہ اخبار فوری طور پر لیکر یہاں آجائو‘ اس کے بعد میں رائو صاحب کے ساتھ 70 کلفٹن پہنچا‘ محترمہ ایک کمرے میں بیٹھی تھیں‘ رائو صاحب نے وہ اخبار ان کے حوالے کیا‘ اخبار پڑھنے کے بعد وہ پریشان ہونے کے بجائے بہت خوش ہوئیں اور کہنے لگیں کہ’’جو باتیں اس خط میں ہیں‘ میں چاہتی تھی کہ سب عوام تک پہنچیں،یہ تو اچھا ہے کہ حکومت نے میری خواہش پوری کردی‘‘یہ کہنے کے بعد وہ بولیں کہ ایک ایسی بات اس لیٹر میں ہے جو شائع نہ ہوتی تو اچھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بات یہ ہے کہ میں نے اس خط کے آخر میں میر کو مشورہ دیا ہے کہ اس خط کی باتوں کے بارے میں انکل کھر (غلام مصطفی کھر) کو آگہی نہیں ہونی چاہئے‘ اتنا کہنے کے بعد وہ ہنس پڑیں اور کہنے لگیں کہ چلو میں میر کو کہتی ہوں کہ وہ میڈیا کے سامنے اس خط کو Disownکریں۔

جب پیرس میں شاہنواز بھٹو کو شہید کیا گیا تو ان کی لاش پیرس سے پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو لے کر آئیں‘ لاش کو لاڑکانہ لے جایا گیا جہاں ان کی نمازِ جنازہ پڑھی گئی اور گڑھی خدا بخش میں ان کو دفن کیا گیا۔اس کے بعد محترمہ گاڑیوں کے ایک بڑے جلوس کی شکل میں لاڑکانہ سے کراچی کے لئے روانہ ہوئیں‘ راستے میں ایک ایسا علاقہ بھی تھا جو پی پی کا گڑھ کہلاتا تھا جہاں پی پی کےکارکنوں نے بڑی قربانیاں دی تھیں وہاں محترمہ نے گاڑی رکوائی اور گائوں میں داخل ہوگئیں‘ گائوں میں داخل ہوتے ہی مردوں کے ساتھ ساتھ گائوں کی عورتیں بھی باہر نکل آئیں‘ سب صحافی یہ دیکھ کر حیران ہوگئے کہ محترمہ ہر ایک خاتون سے ان کے کپڑے میلے ہونے کے باوجود گلے مل رہی تھیں‘ بعد میں محترمہ دادو پہنچیں جہاں محترمہ اور دو صحافی پی پی کے رہنما پیر مظہر الحق کے ہاں ٹھہرے‘ اس رات مہمانوں کا اتنا رش تھا کہ ہر ایک کمرے میں چار چار اور پانچ پانچ لوگ ٹھہرائے گئے خود پیر مظہر الحق‘ میں اور ایک اور صحافی ایک چھوٹے سے کمرے میں فرش پر سوئے‘ صبح کو ہمارے کمرے کا دروازہ کسی نے بجایا‘ آواز سن کر ہم تینوں اٹھ گئے اور جیسے ہی دروازہ کھولا تو سامنے محترمہ بے نظیر بھٹو تیار کھڑی تھیں‘ پیر مظہر کو مخاطب کرتے ہوئے محترمہ نے کہا کہ کل جب ہم آپ کے بنگلے میں آئے تو کچھ غریب خواتین مجھ سے آکر ملیں اور درخواست کرنے لگیں کہ ان کا فلاں گائوں دادو کے قریب ہے ہماری درخواست ہے کہ آپ کل ناشتہ ہم غریب لوگوں کے ساتھ کریں‘ میں نے ان کی دعوت قبول کرلی‘ اب ان کے گائوں سے کچھ لوگ آئے ہوئے ہیں اور ہمیں ان کے گائوں لے جانا چاہتے ہیں لہٰذا میں تیار ہوگئی ہوں اور ان کے ساتھ ان کے گائوں جارہی ہوں۔ 

یہاں میں یہ بات بھی کرتا چلوں کہ لاڑکانہ سے دادو آتے ہوئے جہاں محترمہ کا کارواں رُکا تھا اور محترمہ جس گائوں میں وہاں کے لوگوں سے ملنے گئی تھیں وہ گائوں دادو کی تحصیل خیرپور ناتھن شاہ میں تھا۔(جاری ہے)

- Advertisement -

Related articles

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Stay Connected

6,000مداحپسند
300فالورزفالور
3,061فالورزفالور
400سبسکرائبرزسبسکرائب کریں

Latest posts