spot_img
Wednesday, August 10, 2022
spot_img

-

ہومLatest Newsنوازشریف ٹھیک کہتا تھا

نوازشریف ٹھیک کہتا تھا

- Advertisement -
- Advertisement -

نیازی سرکار جس طرح معرض وجود میں آئی نوے فیصد باشعور عوام کو پتہ ہے لیکن ہم موبائل، وٹس ایپ، فیس بک اور سوشل میڈیا کی دنیا میں اتنے مگن ہیں کہ نئی کہانیاں اور گرما گرم بریکنگ نیوز، چٹ پٹی خبریں دیکھتے ہیں، سنتے ہیں، ماضی کے لئے وقت نہیں رہا نہ تاریخ یاد رہتی ہے۔

جب نوازشریف کو نام نہاد پانامہ ڈرامے کے سکرپٹ کے تحت دو سو پیشیاں کروا کر اقتدار سے باہر کیا گیا، نگران جج کو تاحایات سر پر مسلط کر انصاف کا گلہ گھوٹا گیا، نظرثانی اور کسی بھی اپیل کو نہ سنا گیا، تب سے اب تک ملک میں ایک دن بھی سکون ک نہیں گزرا، یہ نہیں کہ نوازشریف نے دودھ اور شہد کی ندیاں بہا دی تھیں البتہ یہ ضرور کیا تھا کہ ملک میں جاری بدترین لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا، دھماکے روکے، کراچی میں قتل و غارت روکی، مہنگائی روکی، ترقی کی جانب بڑھتے ہوئے سی پیک جیسے منصوبے شروع کیئے، سڑکوں اور ہسپتالوں سے میٹروز تک دن رات کام ہونے لگے، جب یہ سب ہو رہا تھا اس وقت بھی سڑکوں پہ ایک خبطی انسان سکرپٹ کے تحت دن رات حکومت مخالف مہم چلا رہا تھا، ٹانگیں کھینچنے کے لیئے اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ عمران خان ملکی ترقی میں روڑے اٹکا رہا تھا۔

پھر سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ن لیگ کے اہم رہنماؤں کو چن چن کر عدلیہ سے نااہل کروایا گیا، انتقامی کارروائیوں کا آغاز کیا گیا جو آج تک جاری ہے۔

نیازی سرکار کو حکومت میں لایا گیاپونے چار سال پاکستان پر نہایت بھاری گزرے، معاشی، اخلاقی اور خارجہ محاذ پر ناکامیوں کی ایک لمبی داستان ہے، نیازی حکومت کے مظالم بڑھتے دیکھ کر، عوام پر بوجھ دیکھ کر ہمارا ریمورٹ کنٹرول میڈیا بجائے کٹھ پتلی وزیراعظم یا اسٹیبلشمنٹ کو موردالزام ٹھہراتے، الٹا اپوزیشن کو برابھلا کہتے رہتے، پروگرام ڈیزائن کیئے جاتے تاکہ اپوزیشن کو رگید کر ریٹنگ اوپر کی جائے، عمران خان چونکہ کارسلطنت سے ناواقف تھا، اس نے ملکی خزانے کو ہوا میں اڑایا اور قرضوں کا بوجھ اٹھا کر پاکستان کو اس نہج پر لے گیا جہاں آج کھڑا ڈگمگا رہا ہے، لیکن عمران خان کی ایک کوالٹی ہے کہ وہ اتنا جھوٹ بولتے ہیں اور پورے اعتماد سے بولتے ہیں کہ اسے سچ بنا دیتے ہیں، اپنا کیا دھرا دوسروں پہ ڈال کر ان کو چور بھی کہتے ہیں اور ہماری “باشعور قوم” اس کی باتوں پر ہر بار یقین بھی کر لیتی ہے۔

وہ ملک کو پستی کی جانب لے گئے ساتھ ساتھ چور چور کا ورد جاری رکھا، میڈیا کی جانب سے لعن طعن اپوزیشن پر کی جاتی، ان کو کہا جاتا کہ آپ کی نااہلی کی وجہ سے حکومت مہنگائی کر رہی ہے اور آپ کچھ نہیں کر رہے، اپوزیشن نے اپنی سی کوششیں کیں لیکن پاکستان جیسے ملک میں عدلیہ، فوج حکومت کا ٹرائیکا ایک پیج پر ہو تو بھائی کس میں ہمت ہے حکومت کا بال بھی بیکا کیا جا سکے، ساری تدبیریں کارگر ثابت نہیں ہو سکتیں جب مقتدر حلقے مخالف کے ساتھ کھڑے ہوں، ان حالات کو دیکھتے ہوئے نوازشریف لندن میں بیٹھے بیٹھے ایک ہی موقف دہراتے رہے کہ قبل از وقت غیرجانبدارانہ انتخابات مسائل کا واحد حل ہیں، وہ کہتے تھے ملک تباہ ہو رہا ہے اس کو بچائیں، مہنگائی کو روکیں، آئی ایم ایف کے معاہدوں سے ملک تباہی کی جانب جائے گا، روکیں، لیکن ایک زرداری سب پہ بھاری کا فارمولہ عدم اعتماد سے آگے نہ بڑھ سکا، پی ڈی ایم بھی اسی وجہ سے چھوڑ دی کیونکہ نوازشریف عدم اعتماد پر قائل نہ تھے، وہ چاہتے تھے کہ یا فوری انتخابات ہوں یا عمرانی حکومت کو وقت دیا جائے تاکہ اپنے بوجھ تلے خود دب جائے، لیکن پھر مولانا اور شہبازشریف کی “شبانہ روز محنت” کی وجہ سے نجانے نوازشریف کو کیسے قائل کیا گیا، عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو نوازشریف کا پھر اصرار تھا کہ نیازی سرکار کا گند اپنے سر نہیں لینا، براہ راست انتخابات میں جایا جائے، لیکن بات نہ مانی گئی، حالانکہ دونوں بار نوازشریف ٹھیک بات کر رہے تھے، شہبازشریف کو وزیراعظم بننا تھا بن گئے، پنجاب میں حمزہ کو وزیراعلی بنوانے کی غلطی دہرائی گئی، اور ان سب عوامل کے پیچھے ایک زرداری سب پہ بھاری تھے جن کا پنجاب میں اتنا بڑا سٹیک نہیں، آج وہ ن لیگ کی باگ ڈور سنبھالے اپنے مشن پہ ہیں، شہبازشریف اور حمزہ چپ سادھے زرداری کے پیچھے چل رہے، شہبازشریف کی حکومت ہو یا پنجاب میں حمزہ کے لیئے چوھدری شجاعت کو راضی کرنا، زرداری پیش پیش ہیں لیکن جمہوری نظام میں استحکام نہیں آ رہا ہے، جولائی 2017 سے لے کر آج تک ملک میں افراتفری ہے، معیشت گر گئی، حکومتیں مستحکم نہیں، عدلیہ یکطرفہ چل رہی ہے، اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہونے کا تاثر دے رہی ہے لیکن کچھ بھی ٹھیک نہیں، سب جھوٹ بول رہے ہیں، اپنے اپنے مفاد کے لیئے ملک کے ساتھ کھلواڑ جاری ہے۔

نوازشریف ٹھیک کہتا تھا اور کہتا رہ گیا۔ آج بھی ملک میں انصاف کے نام پر ڈرامہ چل رہا ہے، اگر ہمارے ملک کی عدلیہ 130 ویں نمبر سے 30 درجے بھی کم ہوتی تو نوازشریف کو بھی انصاف مل جاتا، یوں دوسری خودساختہ جلاوطنی نہ کاٹنی پڑتی، آج بھی ملک میں ان کی حکومت نہیں جو حکمران بنے بیٹھے ہیں۔

قوموں اور مملکتوں پر زوال ایک دم وارد نہیں ہوتے، وقت لگتا ہے، سکرپٹ دشمن لکھتا ہے اور عمل درآمد اندرونی میر جعفر نام نہاد خط لہرا کر کرتے ہیں، طاقتور حلقوں کو ساتھ ملا کر، جھوٹے بیانیئے گھڑ کر ملک میں انتشار پھیلاتے ہیں، اصلاح کے نام پر فساد برپا کرتے ہیں۔ ورنہ وہی مجرم ہوتے ہیں لیکن ان کے فارن فنڈنگ کیسز لٹک جاتے ہیں۔۔

آج نوازشریف کو مسلم لیگ ن کو دوبارہ فعال کرنے لے لیئے سامنے آنا ہو گا، جلاوطنی ترک کر کے عام انتخابات میں نئے ولولے سے اترنا ہو گا، اس نظام کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آخری پتہ کھیلنا ہو گا۔ وقت جارحانہ کھیل مانگ رہا ہے۔ نوازشریف دوسروں کو مشورے نہ سنے، خود فیصلے کریں، آپ کا ووٹر سب سمجھتا ہے، آپ کے لیئے نکلتا ہے۔ نوازشریف صاحب آپ ٹھیک کہتے تھے کہ جب تک سیاست سے اسٹیبلشمنٹ کا کردار ختم نہیں ہو گا یہ ملک آگے نہیں بڑھے گا۔

آج آگے بڑھنے کا وقت ہے آئیں اور فتنے کی راہ روکیں ورنہ پھر سیاست چھوڑ دیں۔ لیڈر بزدل نہیں ہوتے۔۔ واپس آ جائیں ورنہ نون لیگ بھی قصہ پارینہ بن جائے گی۔

- Advertisement -

Related articles

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Stay Connected

6,000مداحپسند
300فالورزفالور
3,061فالورزفالور
400سبسکرائبرزسبسکرائب کریں

Latest posts