spot_img
Friday, October 7, 2022
spot_img

-

ہومLatest Newsپاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے پیمانےکو جذب کرنا مشکل ہے،برطانوی...

پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے پیمانےکو جذب کرنا مشکل ہے،برطانوی ہائی کمشنر

- Advertisement -
- Advertisement -

پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنرکرسچن ٹرنر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے پیمانےکو جذب کرنا مشکل ہے۔

کرسچن ٹرنر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سیلاب نے ابھرتے ہوئے فوری اور طویل مدتی چیلنجز کو جنم دیا ہے،سیلاب متاثرین کی بنیادی ضروریات میں مدد پہلا چیلنج ہے۔

برطانوی ہائی کمشنرکا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیلاب سے ایک ہزار سے زائد اموات ہوئیں جبکہ 3 کروڑ 30 لاکھ لوگ متاثر ہوئے، 72 اضلاع آفت زدہ قرار دیے گئے اور 10 لاکھ گھر تباہ ہوئے۔

کرسچن ٹرنر نے کہا کہ سیلاب سے 10 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی اور 7 لاکھ مویشی ہلاک ہوئے، یہ بڑا انسانی چیلنج ہے جس کے طویل مدتی اثرات ہیں اس لیے برطانیہ نے فوری طور پر 15 لاکھ پاؤنڈز کی امداد کا اعلان کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم شیری رحمان،این ڈی ایم اے اور دیگر اداروں سے مل کر مزید امداد کی ضرورت کا جائزہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی اخراج کے صرف ایک فیصد کا ذمہ دار ہے۔پاکستان آب و ہوا کے حوالے سے آٹھواں سب سے کمزور ملک ہے اور اس نے 10 سال کے دوران موسمی تغیر کے نتیجے میں 18 ارب ڈالر کے معاشی نقصانات کا سامنا کیا۔

برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے مزید کہا کہ گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جس کی وجہ سے انتہائی موسمی واقعات عام ہوتے جا رہے ہیں، موسمیاتی تبدیلی اقتصادی ،سلامتی اور خارجہ پالیسیوں کے تناظر میں فوری عالمی مسئلہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے پاکستان کے ساتھ شراکت داری کے لیے 55 ملین پاؤنڈز کا کوپ 26 میں وعدہ کیا ہے۔

- Advertisement -

Related articles

Stay Connected

6,000مداحپسند
300فالورزفالور
3,061فالورزفالور
400سبسکرائبرزسبسکرائب کریں

Latest posts