spot_img
Monday, August 8, 2022
spot_img

-

ہومLatest Newsاگر کسی طیارے سے آسمانی بجلی ٹکرا جائے تو کیا ہوگا؟

اگر کسی طیارے سے آسمانی بجلی ٹکرا جائے تو کیا ہوگا؟

- Advertisement -
- Advertisement -

موسم خراب ہو تو طیارے پر سفر خوفزدہ کردینے والا محسوس ہوسکتا ہے، خاص طور پر اگر بار بار آسمانی بجلی گر رہی ہو۔

مگر کیا طیارے سے آسمانی بجلی ٹکرانا خطرناک ہوتا ہے اور بجلی کی لہر ٹکرانے سے کیا ہوتا ہے؟

اگر یہ خیال خوفزدہ کرتا ہے تو اچھی خبر یہ ہے کہ طیاروں سے بجلی ٹکرانا بہت زیادہ عام ہے اور ایسا ہونے پر وہ نیچے نہیں گرتے۔

دنیا بھر میں روزانہ کی بنیاد پر کسی ایک طیارے کو آسمانی بجلی کی لہر کا سامنا ہوتا ہے۔

یو ایس نیشنل ویدر سروس کے مطابق اوسطاً ہر طیارے سے سال بھر میں ایک یا 2 دفعہ آسمانی بجلی ٹکراتی ہے۔

بجلی ٹکرانے کا انحصار متعدد عناصر پر ہوتا ہے جیسے طیارہ سال بھر میں کتنی بار پرواز کرتا ہے۔

جو طیارے دن بھر میں کئی بار پرواز کرتے ہیں ان کا آسمانی بجلی سے ٹکرانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

اسی طرح جغرافیائی عناصر بھی اس حوالے سے اہمیت رکھتے ہیں جیسے شمال کے مقابلے میں خط استوا میں واقع خطوں میں اس کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

ویسے سننے یا پڑھنے میں کسی بجلی سے ٹکرانا اچھا تجربہ محسوس نہیں ہوتا مگر موجودہ عہد کے طیارے آسمانی بجلی کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن کیے جاتے ہیں۔

ٹائم میگزین کی ایک رپورٹ کے مطابق آخری بار 1967 میں آسمانی بجلی سے ایک کمرشل طیارہ حادثے کا شکار ہوا تھا۔

اب طیاروں کو تیار کرتے ہوئے مخصوص ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ آسمانی بجلی ٹکرانے سے کوئی نقصان نہ ہو۔

آسمانی بجلی عموماً کسی طیارے کی ناک یا ونگ کے کونے سے ٹکراتی ہے جس کے بعد برقی رو باقی حصوں کی جانب بڑھتی ہے۔

مگر طیارے کی باڈی کسی جنگلے کی طرح اندرونی حصے کا تحفظ کرتی ہے اور برقی رو اوپری حصے سے گزر جاتی ہے۔

کبھی کبھار بجلی ٹکرانے سے کچھ وقت کے لیے لائٹس جلنے بجھنے لگتی ہیں یا کچھ انسٹرومنٹ کے افعال متاثر ہوتے ہیں اور بس۔

البتہ کبھی کبھار آسمانی بجلی سے طیارے کے کسی حصے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

2021 میں ایسے 11 واقعات رپورٹ ہوئے تھے جن میں آسمانی بجلی کے باعث طیارے کی مرمت یا چیکنگ کی گئی۔

اور یہ تعداد نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ 2021 میں کمرشل پروازوں کی تعداد ایک تخمینے کے مطابق 30 کروڑ 40 لاکھ تھی۔

اور ہاں اکثر مسافروں کو تو علم بھی نہیں ہوتا کہ بجلی کی لہر طیارے سے ٹکرائی ہے، بہت کم مواقعوں میں انہیں اس کا احساس ہوتا ہے۔

آسمانی بجلی کی لہر سے ایندھن میں آگ بھڑکنے کا خدشہ ہوتا ہے تو طیاروں کے فیول ٹینک کو اس حوالے سے بہت زیادہ تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔

- Advertisement -

Related articles

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Stay Connected

6,000مداحپسند
300فالورزفالور
3,061فالورزفالور
400سبسکرائبرزسبسکرائب کریں

Latest posts