spot_img
Friday, October 7, 2022
spot_img

-

ہومLatest Newsبدترین بارشیں اور سیلاب: 1128 افراد جاں بحق، 4 کروڑ سے زائد...

بدترین بارشیں اور سیلاب: 1128 افراد جاں بحق، 4 کروڑ سے زائد افراد بےگھر

- Advertisement -
- Advertisement -

حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک بھر میں حالات ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ انتہائی خراب ہوتے جارہے ہیں۔

رواں برس کے آغاز میں ہونے والی خشک سالی اور پھر غیر متوقع پری مون سون بارشوں نے ماہرین نے بھانپ لیا تھا کہ جس موسمی تغیر کے خطرات کا کدشہ نظر آرہا تھا وہ اب آچکا ہے۔

حالیہ مون سون سیزن کی بارشوں نے خدشات سے کئی گنا زیادہ نقصان پہنچایا ہے، ملک میں اب تک حالیہ بارشوں اور سیلاب سے 1128 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور اس میں ہر روز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

مزید بارش اور سیلاب کا خدشہ

نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن (ایف ایف ڈی) نے مطلع کیا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں بارش جاری رہنے کا امکان ہے۔

کالاباغ میں دریائے سندھ اورچشمہ میں اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران اونچے درجے کا سیلاب آنے کا امکان ہے۔

این ڈی ایم اے کی ہدایات

تمام متعلقہ وفاقی وزارتیں اور محکمے، پی ڈی ایم ایز (PDMAs)، آبپاشی کے محکمے، متعلقہ ضلعی اور شہری انتظامیہ کو کسی بھی اطلاع کی صورت میں فوری کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔

کہاں کہاں کتنا سیلاب؟

پاکستان فلڈ سیل کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں ضلع اٹک میں خیرآباد کے مقام پر جب کہ دریائے کابل میں وارسک کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

فلڈ سیل کے مطابق وارسک کے مقام پر دریا سے پانی کا بہاﺅ 213,000 کیوسک ہے جب کہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

ایری گیشن فلڈ کنڑول کے مطابق دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانچ کے سطح مزید بلند ہو رہی ہے چونکہ علاقے سے 210,000 کیوسک پانی کا ریلہ گزر رہا ہے۔

محکمہ موسمیات کی طرف سے دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ کے مطابق پر بھی سیلاب کی وارننگ جاری کی گئی ہے اور پانی کی سطح میں دن 12بجے کے 550,000 کیوسک کے بہاﺅ سے 28اگست تک 700,000کیوسک تک پہنچنے کا خطرہ ہے۔ دریائے سندھ میں گدو اور سکھر بیراج کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ گدو میں دریائے سندھ میں پانی کا بہاﺅ 5,24,000کیوسک جب کہ سکھر بیراج کے مقام پر پانی کا بہاﺅ 5,66,000کیوسک ہے۔ دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے جب کہ پانی کا بہاﺅ 4,70,000 کیوسک ہے۔

صورت حال انتہائی خراب

سرکاری حکام نے 2022 کی مون سون بارشوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیلاب کی صورتحال کو ملکی تاریخ کی بدترین موسمیاتی تبدیلی قرار دیا ہے اور حالیہ سیلاب کے نتیجہ میں ہونے والے نقصانات 2005 کے تباہ کن زلزلہ اور 2010 کے سیلاب سے بڑھ گئے ہیں۔

حکام کے مطابق پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا بدترین نشانہ بنا جس کے نتیجہ میں بلوچستان ، سندھ ، خیبر پختونخوا ، پنجاب ، گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر میں بڑے پیمانے پر تباہی برپا ہوئی۔

سیلاب کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصان ، مویشیوں کی ہلاکت اور فصلوں کی تباہی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے چونکہ ملک کے 110 اضلاع میں ابھی بھی سیلابی صورتحال پائی جاتی ہے۔

قدرتی آفات کے نمٹنے کے وفاقی، صوبائی اداروں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ، پراوینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے فراہم کی گئی تازہ ترین معلومات کے مطابق سب سے زیادہ 351 اموات سندھ میں ہوئی ہیں، بلوچستان میں 273 خیبر پختونخوا میں 235 جب کہ پنجاب میں 203 افراد جاں بحق ہوئے۔ اسی طرح آزاد جموں کشمیر میں 47 اور گلگت بلتستان میں 19 افراد لقمہ اجل بنے۔

- Advertisement -

Related articles

Stay Connected

6,000مداحپسند
300فالورزفالور
3,061فالورزفالور
400سبسکرائبرزسبسکرائب کریں

Latest posts